بہاولپور: اے آئی سے زہر بنانے کی کوشش، 17 سالہ طالب علم گرفتار

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر بہاولپور سے ایک سترہ سالہ طالب علم کو سائبر کرائم حکام نے حراست میں لے لیا ہے۔ پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی یعنی این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ اس سترہ سالہ نوجوان کو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے زہر دینے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
ہمارے ذرائع کے مطابق اس گرفتاری کے پیچھے امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی جانب سے فراہم کی جانے والی ایک اہم اطلاع تھی۔ امریکی ایف بی آئی سے ملنے والی اس پیشگی اطلاع کے بعد این سی سی آئی اے نے فوری طور پر کارروائی کا آغاز کیا اور بہاولپور سے اس طالب علم تک رسائی حاصل کر کے اسے گرفتار کر لیا۔
ہمارے ذرائع نے بتایا ہے کہ اس کم عمر طالب علم پر مبینہ طور پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے جان لیوا زہر کی ترکیب جاننے اور تیار کرنے کے لیے جدید مصنوعی ذہانت کا سہارا لیا۔ ملزم کمپیوٹر اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے زہر دینے کی مبینہ کوشش میں ملوث پایا گیا۔ این سی سی آئی اے کے اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔
ہمارے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی کی جانب سے پاکستانی اداروں کو الرٹ موصول ہونے کے فوراً بعد نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی متحرک ہوئی۔ ایجنسی نے ملزم کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھی اور بہاولپور میں چھاپہ مار کر طالب علم کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
ہمارے ذرائع کے مطابق گرفتار طالب علم سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے حاصل کردہ معلومات کو کس طرح استعمال کرنا چاہتا تھا۔ این سی سی آئی اے اس پورے واقعے کے قانونی اور تکنیکی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔